ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / افغانستان میں نئی حکمت عملی اپنائی جائے: امریکی سینیٹرز

افغانستان میں نئی حکمت عملی اپنائی جائے: امریکی سینیٹرز

Wed, 05 Jul 2017 16:24:57    S.O. News Service

کابل،5؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)افغانستان پہنچے امریکی سینیٹرز کے وفد نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائی جائے۔ان مککین کی قیادت میں امریکی سینیٹرز کا یہ وفد پاکستان کا دو روزہ دورہ مکمل کرنیکے بعد منگل چار جولائی کو کابل پہنچا۔ یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے افغان جنگ کے بارے میں مستقبل کی حکمت عملی پر مبنی ایک نظرثانی شدہ خط جاری ہونے میں قریب ایک ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے۔ افغانستان میں جاری امریکی جنگ 16ویں برس میں داخل ہو چکی ہے اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں یہ موضوع یکسر غائب رہا۔

امریکی ری پبلکن سینیٹر جان مک کین نے کہا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان یا خطے میں قیام امن کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب پاکستان کا کردار زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ سابق ریپبلکن صدارتی امیدوار اور امریکی سینیٹ میں آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین نے اسلام آباد میں کہا تھا کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان یا خطے میں قیام امن کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب پاکستان کا کردار زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

کابل میں نیٹو اتحاد کے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان مکین کا کہنا تھا، ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم یہاں افغانستان میں جنگ جیتنے کی راہ پر ہیں۔ اپنی ری پبلکن پارٹی میں ٹرمپ کے شدید ناقد میککین کا مزید کہنا تھا، اور اسے تبدیل ہونا چاہیے اور جلد۔جان مککین کے علاوہ امریکی سینیٹرزلِنڈسی گراہم، ایلزبیتھ وارین، شیلڈن وائٹ ہاؤس اور ڈیوڈ پیڈرو بھی اس علاقائی دورے پر ان کے ساتھ ہیں۔ میساچیوسٹس سے ڈیموکریٹک سینیٹر ایلزبیتھ وارین کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان اس لیے گئی ہیں تاکہ وہ اس بات کا جائزہ لے سکیں کہ افغانستان کے اندر کیا ہو رہا ہے۔ خاتون سینیٹر کا مزید کہنا تھا، ہمیں امریکا میں ایک ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو افغانستان میں ہمارے کردار کا تعین کرے، ہمارے مقاصد متعین کرے اور اس بات کی وضاحت کرے کہ ہم یہاں سے وہاں تک کیسے پہنچیں گے۔

امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس جولائی کے وسط میں ٹرمپ کو افغانستان میں مستقبل کے لیے ممکنہ حکمت عملی کی ایک فہرست پیش کریں گے۔ گزشتہ ماہ ٹرمپ نے جیمز میٹس کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کا تعین کر سکتے ہیں تاہم بطور کمانڈر اِن چیف ٹرمپ کو اس جنگ کے بارے میں مجموعی حکمت عملی پر دستخط کرنا لازمی ہوں گے۔


Share: